Sir Ch. Irshad M. Khan (Late)
Islamiat Teacher / Principal
A Daughter’s Tribute — The Life Story of Sir Irshad Muhammad Khan by Ismat Mustafa
Heartfelt gratitude to his daughter, Ismat Mustafa, for sharing this remarkable personal life story of Sir Irshad Muhammad Khan and preserving the memories of a truly respected soul. A beautiful tribute from a loving daughter to an unforgettable father. Remembering the remarkable journey of Sir Irshad Muhammad Khan — a mentor, educator, and guiding light for countless students whose wisdom and character left a lasting impact on all who knew him. Ismat Mustafa’s Profile on icbian.com – Click Here.
ملتان… وہ شہر جہاں مٹی سے خوشبو آتی ہے، جہاں اذانوں میں روحانیت گھلی ہوتی ہے، جہاں درباروں کے سائے میں نسلیں ادب، محبت، خدمت اور انسان دوستی سیکھتی ہیں۔ یہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ تہذیب، تصوف، علم اور کردار کا وہ دبستان ہے جس نے صدیوں سے ایسے مردانِ حق پیدا کیے جو اپنے عمل سے زمانوں کو روشنی عطا کرتے رہے۔ انہی روشن چراغوں کی قطار میں ایک درخشاں نام حضرت چوہدری ارشاد محمد خان کا بھی ہے، جن کی پوری زندگی اخلاص، علم، درویشی، خدمت، وقار اور انسانیت سے محبت کا ایک ایسا نادر مرقع تھی جسے الفاظ میں مکمل طور پر سمیٹنا ممکن نہیں۔
وہ محض ایک استاد نہ تھے، وہ ایک تحریک تھے۔
وہ محض ایک پرنسپل نہ تھے، وہ کردار سازی کی ایک مکمل درسگاہ تھے۔
وہ محض ایک انسان نہ تھے، بلکہ ایک ایسا عہد تھے جس میں محبت بھی تھی، شفقت بھی، عبادت بھی، دانائی بھی، وقار بھی اور ایسی درویشی بھی جو آج کے دور میں نایاب ہو چکی ہے۔
ان کی شخصیت کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پرانی تہذیبوں کی شرافت، صوفیوں کی عاجزی، معلمین کی دانائی اور اولیاء کی نرم خوئی ایک ہی وجود میں جمع ہو گئی ہو۔
ولادت — ایک روشن ستارے کا طلوع
مشرقی پنجاب، ہندوستان کی سرزمین پر28 فروری 1932ء کو ایک ایسے بچے نے آنکھ کھولی جسے قدرت نے عام انسانوں جیسا نہیں بنایا تھا۔ یہ بچہ بعد میں ہزاروں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن، بے شمار شاگردوں کے لیے مشعلِ راہ، اور معاشرے کے لیے ایک خاموش مگر عظیم خدمتگار بننے والا تھا۔ اس بچے کا نام تھا چوہدری ارشاد محمد خان۔
ان کے والد محترم چوہدری عطا محمد اپنے علاقے کی ایک باوقار، نڈر اور بااصول شخصیت تھے۔ گھڑ سواری سے عشق رکھتے تھے اور اپنی برق رفتاری، بلند ہمتی اور جرات کی وجہ سے دور دور تک پہچانے جاتے تھے۔ لوگ ان کا ذکر احترام سے کرتے تھے۔ انہی اوصاف کی ایک حسین جھلک بعد میں ان کے صاحبزادے چوہدری ارشاد محمد خان کی شخصیت میں بھی نمایاں نظر آئی۔
وہ جس گھرانے میں پیدا ہوئے، وہاں رزقِ حلال کو عبادت سمجھا جاتا تھا، بڑوں کے ادب کو ایمان کا حصہ مانا جاتا تھا، اور محنت کو کامیابی کی واحد کنجی تصور کیا جاتا تھا۔ اس خاندان میں عاجزی دولت تھی، شرافت زیور تھی، اور انسانیت سب سے بڑی پہچان۔
چونکہ وہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے، اس لیے ان کی تربیت نہایت توجہ، محبت اور شفقت سے کی گئی۔ مگر سچ یہ ہے کہ بعض لوگ تربیت سے عظیم بنتے ہیں اور بعض لوگ فطرتاً عظمت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ چوہدری ارشاد محمد خان انہی خوش نصیب انسانوں میں سے تھے جن کے کردار کی روشنی بچپن ہی سے نمایاں تھی۔
بچپن — معصومیت، شرافت اور غیرمعمولی شعور
ان کا بچپن عام بچوں جیسا نہ تھا۔ کم عمری ہی سے ان کے مزاج میں سنجیدگی، ذمہ داری اور غیرمعمولی ذہانت نمایاں تھی۔ وہ کھیلتے بھی تھے تو تہذیب کے دائرے میں، بات کرتے بھی تھے تو احترام کے ساتھ، اور دوسروں کے ساتھ پیش آتے بھی تھے تو محبت اور خلوص سے۔
ہندوستان میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے ان کے ہندو ہم جماعت بھی تھے۔ مگر ان کے دل میں کبھی مذہبی یا معاشرتی تفریق پیدا نہ ہوئی۔ وہ ہر انسان کو عزت دینے پر یقین رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ہر مذہب، ہر طبقے اور ہر مزاج کے لوگ ان سے محبت کرتے تھے۔
وہ میلوں پیدل چل کر سکول جاتے تھے۔ آج کے دور میں چند منٹ کی مسافت بھی لوگوں کو تھکا دیتی ہے، مگر چوہدری ارشاد محمد خان دو دو گھنٹے کا سفر پیدل طے کرتے، راستے میں ساتھیوں کے ساتھ ہنستے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے، اور منزل تک پہنچتے پہنچتے سب کی تھکن بھی اتار دیتے۔
یہ صرف جسمانی قوت نہ تھی بلکہ ایک ایسا مثبت ذہن تھا جو ہر مشکل کو آسان بنا دیتا تھا۔ وہ راستوں کی دشواریوں میں بھی خوبصورتی تلاش کر لیتے تھے۔ یہی ان کی شخصیت کا وہ پہلو تھا جس نے بعد میں انہیں ایک عظیم معلم اور ایک کامیاب انسان بنایا۔
ہجرت — قربانی، صبر اور قیادت کی لازوال داستان
پھر وہ وقت آیا جب برصغیر کی فضائیں تقسیمِ ہند کے ہولناک نعروں سے گونج اٹھیں۔ ہر طرف خوف، بے یقینی، خونریزی اور بچھڑنے کی داستانیں تھیں۔ ایسے نازک دور میں جب بڑے بڑے لوگ حواس کھو بیٹھتے ہیں، چوہدری ارشاد محمد خان نے اپنی کم عمری کے باوجود غیرمعمولی تدبر اور قیادت کا ثبوت دیا۔
ہوشیار پور سے پاکستان کی طرف ہجرت ایک عام سفر نہ تھا؛ یہ زندگی اور موت کے درمیان سفر تھا۔ ٹرینیں جلائی جا رہی تھیں، قافلے لوٹے جا رہے تھے، لوگ اپنے پیاروں سے بچھڑ رہے تھے۔ مگر اس نوجوان نے اپنی چار بہنوں اور اہلِ خانہ کے لیے ایک مضبوط سائبان کا کردار ادا کیا۔
کس چیز کو ساتھ لے جانا ہے؟ کیا چھوڑ دینا ہے؟ کس راستے سے جانا محفوظ ہوگا؟ کس لمحے خاموش رہنا ہے اور کب فیصلہ لینا ہے؟
یہ سب ذمہ داریاں انہوں نے ایسی پختگی سے نبھائیں کہ خاندان ہمیشہ ان کی بصیرت اور جرات کا معترف رہا۔
وہ جب بعد کے زمانوں میں اپنے پوتوں اور نواسیوں کو ہجرت کی داستان سناتے تو سننے والے حیرت اور عقیدت میں ڈوب جاتے۔ ان کے الفاظ میں صرف قصہ نہ ہوتا تھا بلکہ تاریخ کی دھڑکن سنائی دیتی تھی۔
تعلیم سے عشق — علم کو عبادت بنا دینے والا انسان
پاکستان پہنچنے کے بعد اکثر لوگ حالات کے ہاتھوں ٹوٹ جاتے ہیں، مگر چوہدری ارشاد محمد خان نے مصیبتوں کو اپنی طاقت بنا لیا۔ انہوں نے نہ صرف اپنی تعلیم دوبارہ شروع کی بلکہ اپنے اردگرد کے نوجوانوں اور رشتہ داروں میں بھی علم کی شمع روشن کی۔
وہ علم کو صرف ڈگری نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے انسان کی روح کا نور قرار دیتے تھے۔ ان کے نزدیک تعلیم انسان کو صرف روزگار نہیں دیتی بلکہ کردار، بصیرت اور انسانیت عطا کرتی ہے۔
میٹرک کا امتحان انہوں نے 1948ء پاس کیا۔ پھر 1953ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بی اے کیا۔ اس کے بعد بی ٹی، ایم اے اور ایم ایڈ کی اعلیٰ اسناد حاصل کیں۔ یہ سب کچھ ایسے دور میں کیا جب وسائل کم تھے مگر عزم بلند تھا۔
وہ راتوں کو جاگ کر پڑھتے، دن بھر کام کرتے، اور پھر بھی چہرے پر مسکراہٹ رکھتے۔ ان کی زندگی نوجوانوں کے لیے اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو راستے خود بخود آسان ہوتے چلے جاتے ہیں۔
معلمِ اعظم — وہ استاد جس نے نسلیں سنوار دیں
چوہدری ارشاد محمد خان نے اپنی عملی زندگی کا آغاز اسلامیہ ہائی سکول دولت گیٹ ملتان سے کیا۔ پھر تھیل سکول منگلا میں خدمات انجام دیں جہاں ان کی تدریسی مہارت نے سب کو حیران کر دیا۔
اسلام آباد میں 1966ء میں جب ماڈل سکولز کے قیام کا آغاز ہوا تو انہیں بطور سبجیکٹ اسپیشلسٹ منتخب کیا گیا۔ یہ ان کی قابلیت کا اعتراف تھا۔
اسلام آباد کالج فار بوائز میں ان کا دور آج بھی سنہری الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے صرف کتابیں نہیں پڑھائیں بلکہ انسان بنائے۔
انہوں نے صرف مضامین نہیں سکھائے بلکہ کردار تراشے۔
انہوں نے صرف امتحانات کی تیاری نہیں کروائی بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ دیا۔
وہ اسلامیات کے ماہر تھے مگر انگریزی اور ریاضی پر بھی غیرمعمولی دسترس رکھتے تھے۔ ان کے شاگرد کہتے تھے کہ جب وہ پڑھاتے تو مشکل سے مشکل مضمون بھی آسان محسوس ہونے لگتا۔
وہ سختی کرتے تھے مگر اس سختی میں شفقت چھپی ہوتی تھی۔ وہ نظم و ضبط چاہتے تھے مگر اس نظم کے پیچھے طلبہ کے مستقبل کی فکر ہوتی تھی۔
پرنسپل — ایک منصب نہیں، ایک ذمہ داری
وہ وائس پرنسپل بنے، پھر پرنسپل کے منصب تک پہنچے، مگر ان کے مزاج میں کبھی غرور نہ آیا۔ وہ بڑے عہدے پر بیٹھ کر بھی چھوٹے لوگوں سے محبت سے ملتے تھے۔
ان کے دفتر کے دروازے ہمیشہ سب کے لیے کھلے رہتے۔ طالب علم ہو، چوکیدار ہو، استاد ہو یا کوئی عام شخص — ہر ایک ان سے بلا جھجھک مل سکتا تھا۔
وہ سفارش یا تعلقات کے سہارے آگے نہیں بڑھے۔ ان کا اصل سرمایہ صرف دیانت، محنت اور کردار تھا۔ اسی لیے لوگ ان کی ترقی پر رشک تو کرتے تھے مگر حسد نہیں کر پاتے تھے۔
عبادت، روحانیت اور اللہ سے تعلق
ان کی زندگی کا سب سے روشن پہلو ان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق تھا۔ عبادت ان کے لیے رسم نہیں بلکہ زندگی کی روح تھی۔
پانچ وقت کی نماز، تہجد، ذکر، تلاوت، اعتکاف — یہ سب ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ مسلسل تیس برس اعتکاف کی سعادت حاصل کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔
سردی ہو یا گرمی، بارش ہو یا دھند، وہ مسجد جانے میں کبھی سستی نہ کرتے۔ ان کا دل اللہ کی محبت سے معمور تھا۔
مرکزی مسجد صدیقی اکبر راولپنڈی میں بطور جنرل سیکریٹری انہوں نے بے مثال خدمات انجام دیں۔ ان کی دیانت اور اخلاص کی وجہ سے لوگ ان پر اندھا اعتماد کرتے تھے۔
انسان دوستی — خاموش خدمت کا استعارہ
وہ ایسے انسان تھے جو لوگوں کی مدد کر کے بھول جاتے تھے۔
کسی کی فیس ادا کرنا، کسی کی نوکری لگوانا، کسی غریب کی عزتِ نفس بچانا، کسی ضرورت مند کے گھر راشن پہنچانا — یہ سب کام وہ خاموشی سے کرتے۔
ان کی زندگی اس حدیث کی عملی تصویر تھی کہ “ایسے صدقہ کرو کہ ایک ہاتھ دے تو دوسرے کو خبر نہ ہو۔”
اخلاق و کردار — ایک چلتی پھرتی درسگاہ
وہ معاف کر دینا جانتے تھے۔
وہ اختلاف کے باوجود محبت قائم رکھنا جانتے تھے۔
وہ دوسروں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا جانتے تھے۔
ان کی گفتگو میں شائستگی، لہجے میں مٹھاس، مزاج میں نرمی، اور طبیعت میں بے مثال وقار تھا۔
ان کی بذلہ سنجی اور نفیس حسِ مزاح نے انہیں ہر عمر کے لوگوں میں محبوب بنا دیا تھا۔ بچے ان سے محبت کرتے تھے، نوجوان ان کا احترام کرتے تھے، اور بزرگ ان پر اعتماد کرتے تھے۔
آخری ایام — ایک روشن چراغ کا خاموش سفر
زندگی کے آخری ایام میں بھی ان کے چہرے پر اطمینان تھا۔ وہ اپنی عبادات، معمولات اور لوگوں سے محبت میں ویسے ہی مصروف رہے جیسے ہمیشہ رہے۔
یہ مردِ درویش خاموشی سے 17 دسمبر، 2024ء بروز منگل اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا۔
نہ شور، نہ دکھاوا، نہ دنیاوی ہنگامہ…
بس ایک خاموش روح اپنے خالق سے جا ملی۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ مرتے نہیں، وہ کردار بن کر زندہ رہتے ہیں۔ وہ دعاؤں میں زندہ رہتے ہیں، شاگردوں کی کامیابیوں میں زندہ رہتے ہیں، اور لوگوں کی یادوں میں ہمیشہ سانس لیتے رہتے ہیں۔
ستارۂ امتیاز — قوم کی جانب سے سلامِ عقیدت
حکومتِ پاکستان نے ان کی بے مثال تعلیمی، روحانی، سماجی اور قومی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارۂ امتیاز عطا کیا۔
اور 13 مئی 2026ء کو دیا جانے والا یہ اعزاز دراصل ایک ایسے انسان کو قومی سلام تھا جس نے پوری زندگی خاموشی سے قوم کی خدمت کی۔
یہ صرف ایک تمغہ نہیں، بلکہ کردار، دیانت، علم، عبادت اور انسانیت کے اُس سفر کا اعتراف ہے جسے چوہدری ارشاد محمد خان نے پوری عظمت کے ساتھ طے کیا۔
دعاۓ مغفرت اور خراجِ عقیدت
یا اللہ
حضرت چوہدری ارشاد محمد خان مرحوم کی قبر کو نور سے بھر دے۔
ان کے درجات کو جنت الفردوس میں بلند فرما۔
ان کی تمام نیکیوں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرما۔
جن لبوں نے علم بانٹا، جن ہاتھوں نے لوگوں کی مدد کی، جن قدموں نے مساجد کا رخ کیا، اور جس دل نے ہمیشہ انسانیت سے محبت کی — ان سب کو اپنی رحمتِ کاملہ کا صدقہ عطا فرما۔
یا رب العالمین
ان کی اولاد کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے، ان کے شاگردوں کو ان کی تعلیمات کا امین بنا، اور ان کی یاد کو رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھ۔
وہ شخص جس نے زندگی علم کے نام کی، عبادت کے نام کی، اخلاق کے نام کی، اور انسانیت کے نام کی —
اے اللہ! اسے اپنی خاص رحمتوں کے سائے میں جگہ عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
Sir Ch. Irshad M. Khan (Late)
A Legend, A Mentor, A Pillar of ICB
(1932 – 2025)
There are few names in the history of Islamabad College for Boys (ICB) that echo with such reverence, respect, and admiration as Sir Ch. Irshad M. Khan. He was not just a teacher or a principal—he was the very foundation upon which the spirit of ICB was built. One of the earliest educators to join the institution, Sir Irshad dedicated the prime of his life to shaping its academic culture, nurturing its students, and establishing its reputation as a premier educational institution.
A Foundational Force at ICB
Joining Islamabad Model School for Boys G-6/3 (ICB) in 1966, Sir Irshad brought with him a rich academic background and teaching experience from across Punjab. Having previously served at Islamia High School in Multan and Thill School in Mangla, he was already a seasoned educator by the time he stepped into the heart of Islamabad’s emerging educational landscape.
From that moment onward, he became a cornerstone of ICB’s growth. His presence in the early days of the institution was not just impactful—it was transformative. As one of the earliest teachers, he helped lay the groundwork for the school’s structure, discipline, and academic excellence. Later, as Vice Principal and eventually Principal, he continued to serve with unwavering dedication, inspiring generations of students and educators alike.
An Administrator Par Excellence
Sir Irshad was a rare combination of wisdom, humility, and administrative brilliance. His leadership was marked by clarity, fairness, and foresight. Whether it was managing the school’s daily affairs or dealing with complex academic challenges, his command over institutional management was exceptional. He led not with authority, but with example—and in doing so, he earned the respect and love of his staff and students.
He also held the distinction of being the Founder Principal of I.M.S.B., G-10/4, further proving his commitment to spreading quality education across the capital.
A Teacher Who Remembered Every Name
Perhaps the most astonishing and heartwarming part of Sir Irshad’s legacy was his deep, personal connection with every student. Even into his final years, Sir Irshad was known to recall the names, strengths, and stories of countless students who had once walked the halls of ICB. His phenomenal memory, matched only by his affection, made every student feel seen, valued, and remembered.
Until his peaceful passing at the age of 94, he remained a living archive of ICB’s legacy—a teacher who truly never forgot the young minds he once guided.
A Guide, A Mentor, A Father Figure
Sir Irshad was more than a teacher—he was a mentor, a counsellor, and for many, a father figure. His door was always open, his advice always rooted in values, and his heart always focused on the moral and intellectual growth of his students. He was the kind of mentor who shaped not just academic excellence, but character and conviction.
The True Face of ICB’s Glory
To speak of ICB’s golden years is to speak of Sir Ch. Irshad M. Khan. He was the embodiment of its discipline, its academic strength, and its moral core. His dedication continues to echo through the classrooms, corridors, and hearts of those who had the privilege to know him.
His story is not just one of a remarkable career—it is the story of a life devoted to education, to nation-building, and to shaping future leaders. His legacy is not written in books but in the lives he touched and the generations he empowered.
We remember you, Sir Irshad, not just as a principal, but as the heart of ICB. Your legacy lives on in every student who ever walked through its gates
Date of birth: 1932
Qualification:
Matric, B.A., S.T., M.A. (Islamic Studies) – 1946, Punjab University
1956 – Emerson College, Lahore
1956 – Central Trq. College Labor
1961 – Punjab University, Lahore
M.Ed., M.Ed. – 1963, Institute of Education & Research, Lahore
Teaching Experience:
1956 to 1963: Islamia High School, Dautiwala, Multan
1963 to 1966: Thill School, Mangla
1966: Islamabad Model School for Boys G-6/3, Islamabad (I.C.B.)
1987: Founder Principal, I.M.S.B., G-10/4
Cherish the golden days of ICB with us!
Cherish the golden days of ICB with us, where every page tells a story of friendship, growth, and unforgettable moments. Celebrate the spirit of ICB with us, as we reconnect with the past and honor the roots that made us who we are today. Walk through the halls of nostalgia with ICBians.com, where every profile is a tribute to the timeless magic of ICB.